یہ دُنیا دیکھنے والی ہے صاحب
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 26
پسند: 0
یہ دُنیا دیکھنے والی ہے صاحب
مگر تیری جگہ خالی ہے صاحب
ترے ہاتھوں میں چھتری بادلوں کی
مرے پیروں میں ہریالی ہے صاحب
ہمارے درمیاں کوئی نہیں ہے
ہمارے درمیاں جالی ہے صاحب
ہمارے ساتھ کا جاگا ہوا ہے
دیے کی آنکھ میں لالی ہے صاحب
بنا کر گیلی مٹی سے پرندے
پھر ان میں جان بھی ڈالی ہے صاحب
گلابوں سے بھرا گُلدان میرا
اور اس میں گیہوں کی ڈالی ہے صاحب
ہمارا شہر باغوں سے بھرا ہے
چراغوں سے بھری تھالی ہے صاحب
میرا لاہور ہے داتا کی نگری
اسی نگری میں ٹکسالی ہے صاحب
ہوا و رنگ میں گرہیں پڑیں ہیں
یہ ڈوری ٹوٹنے والی ہے صاحب
میرے دیوار و در میں تخلیہ کر
کہ تیرے ہاتھ میں تالی ہے صاحب
یہی لہریں ازل سے تا ابد ہیں
سُمندر وقت سے خالی ہے صاحب
واپس جائیں