ہرے کرشنا ہرے کرشنا
ہوا کے ہاتھ زخمی ہیں
مہکتے زخم، موسم کی کہانی ہیں
شجر نوحے اُگاتے ہیں
زمیں کے دانت اپنے ہی بدن کو کاٹتے ہیں
گلابوں سےلہو
مٹی کے پیالے میں ٹپکتا ہے
مہا بھارت کا یُدھ ہے
اور کوئی ارجن نہیں
تلوار اپنے خُون میں ڈوبی ہوئی ہے
کمانوں سے نکلتے تیر
اپنی ہی طرف کو لوٹ آتے ہیں
ہرے کرشنا ہرے کرشنا
لٹے جنموں کی چوکھٹ پر
بکھرتی راکھ میں شبدوں کھے سناٹے
زمانوں کی سُلگتی دھند میں
پر پھڑپھڑاتے ہیں
اندھیرے کی فصیلوں سے کوئی آواز دیتا ہے
ہرے کرشنا ہرے کرشنا
میں پہلا ہوں، میں انتم ہوں
مہا ساگر ہوں، پیپل ہوں، سمے کا قہر ہوں
بھیدوں کا سناٹا ہوں
پانی کا مزہ ہوں
ہتھیلی پر اُگا سورج ہوں، سایا ہوں
کھلے آکاش کی آواز ہوں
دھرتی کے سینے میں گڑا نیزا ہوں
رتھ کے گھومتے پہیے سے لپٹی آگ ہوں
بارش کا موسم ہوں