گرتا تھا بوند بوند جو لمحوں کی آگ میں
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 124
پسند: 0
گرتا تھا بوند بوند جو لمحوں کی آگ میں
وہ میں تھا میرا جسم تھا لفظوں کی آگ میں
۔۔۔
چہرے، صدائیں، پُھول، کتابیں ہوا کے رنگ
ہر چیز جل رہی ہے خیالوں کی آگ میں
۔۔۔
بے سمت ہیں فلک میں پرندوں کے قافلے
بکھری ہوئی ہے شام درختوں کی آگ میں
۔۔۔
کیا کیا بُجھی ہیں مشعلیں گردابِ چشم میں
کیا کیا جلے ہیں آئینے شکلوں کی آگ میں
۔۔۔
شاخوں میں گِر رہے ہیں جلے موسموں کے پر
خوشبوئیں پھڑ پھڑاتی ہیں رنگوں کی آگ میں
۔۔۔
ہونٹوں کا لمس اور جُدائی کی سرد شام
دو سائے بے لباس تھے جسموں کی آگ میں
واپس جائیں