میں اگر رات لکھوں
۔۔۔
میں اگر جسم بانٹوں
تو کیا تم، مِرے ساتھ راہوں میں
اپنے بریدہ سروں کے
عَلم لے کے نکلو گے؟
میں اگر زخم پہنوں
تو کیا تُم کسی تیغ سے
سرد ہونٹوں پہ گرتی ہوئی بوند کا
ذائقہ بن کے ٹپکو گے؟
میں اگر رات لکھوں
تو کیا تُم کرن بن کے
کالی ہواؤں کے
صفحوں پہ اُترو گے؟