بدن ہارے ہوئے لوگو
کہو! کس کے لئے جیتے ہو
دھرتی کے لئے
دھرتی تو قبروں پر فقط کتبے اگاتی ہے
بدن ہارے ہوئے لوگو
کہو! لفظوں کی گرتی پتیوں سے
کس گئے موسم کا افسانہ
صدا کے بے نشاں صفحوں میں لکھتے ہو
کہ لفظوں میں تو سارے ذائقے
سب صورتیں، سب دن
ہَوا کی کم نما قسمت میں جیتے ہیں
بدن ہارے ہوئے لوگو
کہو نیزے پہ اُبھرا چاند
کس دن کی شہادت ہے
فیصلوں سے اُبھرتے ہاتھ، کس کا معجزہ ہیں
ٹہنیوں پر خُون میں بھیگے ستارے
کس سفر کی یادگاریں ہیں
بدن ہارے ہوئے لوگو
کہو کس کھیت میں کٹ کر گرے ہاتھوں کی مہندی
خوشۂ گندم میں ہنستی ہے
مشقت کا پسینہ، کس تجوری میں چمکتا ہے
دھنک کس کے لہُو سے
آسمانوں میں بکھرتی ہے
زمیں کا ذائقہ
کس شجرِ ممنوعہ کی ٹہنی پر
مثالِ زخم کھلتا ہے
بدن ہارے ہوئے لوگو
بدن ہارے ہوئے لوگو!