ہوا رستہ نہ روکے تو کہاں جاؤں
اگر دہلیز سے باہر قدم رکھوں
لہو میں بھیگتی ایڑی
مرے ماتھے پہ موسم کی کہانی ثبت کرتی ہے
کٹے بازو درختوں سے جُدا شاخوں کی صورت
آنگنوں میں پھڑ پھڑاتے ہیں
گھروں میں قحط کی پرچھائیاں
جسموں کا ماتم ہیں
گلی میں تیغ بے اولاد کرتی ہے
ہوا رستہ نہ روکے تو کہاں جاؤں؟