میں پیرہن کی تلاش میں ہوں
مرے بدن سے مجھے برہنہ شکائتیں ہیں
میں رات دن کا وجود پہنے بھٹک رہا ہوں
میں خاکِ عُریاں میں قید ہوں
میرا جسم شل ہے
مکانِ شام و سحر کا دروازہ زنگ آلود قُفل کے
زخم کی صدا ہے
کلیدِ دست ہوا نہ جانے کہاں ہے؟
کن وادیوں کے دروازے کھولتی ہے
میں خاک تشنہ میں خُون کے بیج ڈالتا ہوں
زمین عُریانیاں اُگاتی ہے
آنکھ میں عکس ہاتھ میں لمس
بے لباسی کا ماجرا ہے
میں شاخِ ممنوعہ کی سزا ہوں
مرا برہنہ بدن حیاتِ شجر نہیں ہے
کہ موسموں کا لباس پہنے
میں پیرہن کی تلاش میں ہوں