میں اک بار پھر جاگتا ہوں
۔۔۔
میں اک بار پھر جاگتا ہوں
کہ دُںیا کو دیکھوں
زمیں سے کہوں
میری پرچھائیں کو
دھوپ کے آئینے سے رہا کر
میرے کھلیان کو ابر دے
مجھے ایک پیالہ نمی ایک مٹھی ہوا
پھر عطا کر
مِرے خشک حلقوم کو
اپنے پستان سے صبر دے
میں اک بار پھر جاگتا ہوں