میں
۔۔۔
میں اندھیرے کی چادر میں لپٹا ہوا
سبز تارا ہوں
جس کی ہتھیلی پہ آتے دنوں کی
کہانی لکھی ہے
کبھی سوچ کے زرد جنگل سے گزرو
تو مُجھ پر نظر ڈال لینا
کہ میں آگہی ہوں
میں خموشی میں ڈوبا ہوا ایک نغمہ ہوں
جس میں
کوئی بول ایسا نہیں ہے
جسے بے سبب کہہ سکیں
کبھی خامشی کے سمندر میں اُترو
تو مُجھ پر ذرا کان دھرنا
کہ میں زندگی ہُوں
میں ہواؤں کے فانوس میں
جلنے والا دِیا ہوں
مِری روشنی آسمانوں سے اُڑتی ہوئی
خوشبوؤں کو
زمینوں کے سینے میں بونے پہ مامُور ہے
اور مجبُور ہے