میں اپنی قبر کی مٹّی لئے پھرتا ہوں
۔۔۔
میں اپنی قبر کی مٹی لئے پھرتا ہوں
میرے سامنے
آنے والی زندگی کے وہم کی زنجیر میں جکڑے ہوئے
شام و سحر کے دائرے میں
میرے قدموں سے زمیں لپٹی ہوئی ہے
میرے سر پر آسماں ننگا پڑا ہے
میں ہوا کے ساتھ چلنے کی کشش میں قید ہوں
میری آنکھوں میں سفر کے روز و شب ٹھہرے ہوئے ہیں
میری گردن میں ہوس کا طوق ہے
میں خود اپنے قتل کی سازش میں شامل ہوں
زمیں کا ذائقہ میری سزا ہے
ستارے توڑنے کی آرزو کب تک؟
ہوا بے رنگ ہے
دوری کےنوحے سلسلہ در سلسلہ پھیلے ہوئے ہیں
میں اندھیری رات کے پاتال میں
دم توڑنے کی کشمکش کا راز ہوں
میں تِری آواز ہوں