آسماں آسماں بھٹکتا ہوں
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 82
پسند: 0
آسماں آسماں بھٹکتا ہوں
میں زمیں کا سوتیلا بیٹا ہوں
۔۔۔
بے ہنر بے صفات ہاتھوں سے
شمعیں بو کر اندھیرے کاٹتا ہوں
۔۔۔
ہر طرف دشمنوں کے لشکر ہیں
میں بہادر ہوں پر اکیلا ہوں
۔۔۔
خُوں میں بھیگی ہوئی فصیلوں پر
جو نہ لکھا گیا وہ نوحہ ہوں
۔۔۔
تُو ثبات اور میں نفی تیری
تُو بھی سچا ہے میں بھی سچا ہوں
۔۔۔
کیا سمیٹو گے تُم مجھے، کہ میں
ٹوٹتے آئینوں کا سایہ ہوں
واپس جائیں