ٹُوٹا ہُوں تو خواب ہو گیا ہوں
میں تیرا جواب ہو گیا ہوں
۔۔۔
تُو جب بھی کِھلا ہے مثلِ شعلہ
میں شاخِ سحاب ہو گیا ہوں
۔۔۔
اُبھرا ہے تو جب بھی آئینوں میں
میں تیرا نقاب ہو گیا ہوں
۔۔۔
میں حرفِ گماں تھا تُو نے مُجھ کو
لکھا تو کتاب ہو گیا ہوں
۔۔۔
میں تیغِ برہنہ پر لہو تھا
ٹہنی میں گُلاب ہو گیا ہوں
۔۔۔
میں تیری زمیں کا پہلا دن تھا
میں یومِ حساب ہو گیا ہوں
۔۔۔
چاہا تھا مُجھے بنانا تُو نے
میں اور خراب ہو گیا ہوں
۔۔۔
جب تُو نے معاف کرنا چاہا
میں طوقِ عذاب ہو گیا ہوں