درخت کٹ چکے بہت، ہوا بکھر چکی بہت
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 111
پسند: 0
درخت کٹ چکے بہت، ہوا بکھر چکی بہت
حیات خاک و آب سے کلام کر چکی بہت
۔۔۔
یہ قربتیں یہ فاصلے یہ منزلیں یہ قافلے
مسافروں کی زندگی بگڑ، سنور چکی بہت
۔۔۔
گزر چکے کئی زماں، بنے مٹے کئی نشاں
یہ رہگزر تیرا انتظار کر چکی بہت
۔۔۔
دھوئیں میں سانس لے رہے ہیں کاروانِ روز و شب
لرز لرز کے زندگی کی لو اُبھر چکی بہت
۔۔۔
سزا کی اے طویل شب کوئی کرن نجات کی
زمیں کی خلقِ بے ثبات رب سے ڈر چکی بہت
واپس جائیں