شب ڈھل گئی، دریچہ کُھلا آسمان کا
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 145
پسند: 0
شب ڈھل گئی، دریچہ کُھلا آسمان کا
چمکا فضا میں تِیر اُفق کی کمان کا
۔۔۔
ظاہر ہُوا نشانِ سفر لوحِ آب پر
شاخِ ہُوا میں پُھول کھِلا بادبان کا
۔۔۔
میں خاکِ بے نوا تھا مگر میرے ہاتھ نے
کھولا عَلم فضاؤں میں حروف و بیان کا
۔۔۔
ہونا ہے تر بہ تر مُجھے اپنے ہی خُون میں
میں لفظِ تشنہ لب ہُوں کِسی داستان کا
۔۔۔
مُجھ سے ابد کے اونگھتے سناٹے جاگ اُٹھے
نوحہ تھا میں حیات کی فانی زبان کا
۔۔۔
بے ربط سا لِکھا ہُوا صفحاتِ خاک پر
قیصر کوئی صحیفہ ہُوں میں آسمان کا
واپس جائیں