آسماں دیکھوں پرندے دیکھوں
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 111
پسند: 0
آسماں دیکھوں پرندے دیکھوں
کبھی اس خواب سے آگے دیکھوں
۔۔۔
زخم اُگاتی ہوئی شاخیں پہنوں
خاک اُڑاتے ہوئے رستے دیکھوں
۔۔۔
خون میں ڈوبتی قلمیں چُوموں
پھڑپھڑاتے ہُوئے صفحے دیکھوں
۔۔۔
در و دیوار ہیں اور شمعیں ہیں
کبھی ان شمعوں کو جلتے دیکھوں
۔۔۔
کبھی اس شہر میں سُورج اترے
کبھی ان گلیوں میں بچّے دیکھوں
۔۔۔
پُھول کھِلتے ہوں، ہَوا چلتی ہو
کبھی اِن باتوں کوہوتے دیکھوں
واپس جائیں