آئینے ٹوٹے پڑے تھے باہر
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 77
پسند: 0
آئینے ٹوٹے پڑے تھے باہر
چہرے آنکھوں میں گڑے تھے باہر
۔۔۔
لوگ خوابوں میں سفر کرتے تھے
راستے خالی پڑے تھے باہر
۔۔۔
آنکھیں زنجیر تھیں دروازوں پر
پاؤں سولی میں گڑے تھے باہر
۔۔۔
سنسنانی تھی ہوا کمرے میں
پیڑ خاموش کھڑے تھے باہر
۔۔۔
گھر نے چھوڑا نہ کہیں کا ورنہ
کام کرنے کو بڑے تھے باہر
۔۔۔
ہر طرف جلتے تھے خیمے قیصرؔ
ہر طرف نیزے گڑے تھے باہر
واپس جائیں