ہوا طویل تھی منظر بکھرتے جاتے تھے
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 74
پسند: 0
ہوا طویل تھی منظر بکھرتے جاتے تھے
سمیٹنے میں مِرے پَر بکھرتے جاتے تھے
۔۔۔
لگی تھی آگ ہواؤں میں جلتے تیروں سے
وہ رَن پڑا تھا کہ لشکر بکھرتے جاتے تھے
۔۔۔
وہ جن کو چُھوتے ہوئے انگلیاں پگھلتی تھیں
وہ حرف لوحِ بدن پر بکھرتے جاتے تھے
۔۔۔
اک ایک کر کے سبھی شمعیں بُجھتی جاتی تھیں
زمیں پہ سائے برابر بکھرتے جاتے تھے
۔۔۔
جلے تھے جسم گھروں میں مگر بُجھے چہرے
دُھوئیں کے ساتھ چھتوں پر بکھرتے جاتے تھے
۔۔۔
گُزر رہا تھا جنہیں روند کر میں قدموں سے
وہ آئینے میرے اندر بکھرتے جاتے تھے
واپس جائیں