آنکھیں پگھل رہی تھیں مگر رو نہیں سکا
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 69
پسند: 0
آنکھیں پگھل رہی تھیں مگر رو نہیں سکا
یہ شہر اپنے غم سے رہا ہو نہیں سکا
۔۔۔
اُس رات آسمان کی رنگت عجیب تھی
اُس رات اپنے گھر میں کوئی سو نہیں سکا
۔۔۔
مُجھ کو تو خیر عکس نے زنجیر کر دیا
تُجھ سے بھی آئینوں میں سفر ہو نہیں سکا
واپس جائیں