نفی اثبات کا پانی، مٹی
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 71
پسند: 0
نفی اثبات کا پانی، مٹی
نئے گُل بوٹے پرانی، مٹی
۔۔۔
آنکھ، افلاک، ستارے، پربت
پاؤں، زنجیرِ زمانی، مٹی
۔۔۔
کیسے گوندھی گئی آتش میں ہَوا
کیسے ظاہر ہوئے پانی، مٹی
۔۔۔
کونپلیں لکھتی رہیں زخموں پر
کٹ گئے ہاتھ نہ مانی، مٹی
۔۔۔
لوگ بھرتے رہے قبریں اپنی
پُھول اُگاتی رہی فانی، مٹی
۔۔۔
رہ گئے لوح و قلم ہاتھوں میں
لے گئی حرف و معانی، مٹی
واپس جائیں