ستارے ڈُوب گئے بام و در اکیلے ہیں
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 124
پسند: 0
ستارے ڈُوب گئے بام و در اکیلے ہیں
چلے گئے وہ مسافر نگر اکیلے ہیں!
۔۔۔
گڑی ہوئی ہیں صلیبیں زمیں کے سینے میں
نہ آسماں نہ پرندے شجر اکیلے ہیں
۔۔۔
کھڑا ہے آدمی سر پہ فلک اُٹھائے ہوئے
اور اس کے چاروں طرف بحر و بر اکیلے ہیں
۔۔۔
اُگی ہوئی ہیں فصیلوں میں جاگتی آنکھیں
ہجوم خواب ہے گلیوں میں گھر اکیلے ہیں
۔۔۔
دریچے بھیگ رہے ہیں اداس بارش میں
لکھے ہیں نام جو دیوار پر اکیلے ہیں
۔۔۔
نہ تیری یاد کے سائے نہ میرے دل کا لہو
چراغ شام کی دہلیز پر اکیلے ہیں
واپس جائیں