وہی قصّہ ہے پرانا اپنا
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 71
پسند: 0
وہی قصّہ ہے پرانا اپنا
کبھی آئے گا زمانہ اپنا
۔۔۔
رات پگھلے گی، ہوا جگے گی
قافلہ ہو گا روانہ اپنا
۔۔۔
لفظ کھو جائیں گے سناٹوں میں
ختم ہو گا نہ فسانہ اپنا
۔۔۔
شام وہ بھیگی ہوئی بارش میں
اور وہ اُس کو منانا اپنا
۔۔۔
آنکھیں اُگ آئی تھیں دیواروں میں
وہ تجھے ہاتھ لگانا اپنا
۔۔۔
بھاگنا اپنے تعاقب میں کبھی
اور پھر ہاتھ نہ آنا اپنا
۔۔۔
وہ سُنے گا تو پریشاں ہو گا
حال اُس کو نہ سنانا اپنا
واپس جائیں