ہوا چلی بھی نہیں اور بکھر گئے ہم تم
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 99
پسند: 0
ہوا چلی بھی نہیں اور بکھر گئے ہم تم
خبر ملی نہ کسی کو کدھر گئے ہم تم
۔۔۔
وہ رات یاد ہے جب جسم کی فصیلوں سے
پکارتے رہے سائے گزر گئے ہم تم
۔۔۔
ہمارے چاروں طرف شور تھا صداؤں کا
مگر بچھڑتے ہوئے بات کر گئے ہم تم
۔۔۔
ہماری تشنہ لبی کا سفر سراب میں تھا
ڈبو کے کشتیٔ جاں پار اُتر گئے ہم تم
۔۔۔
ہوا اداس تھی موسم کی پہلی بارش تھی
عجیب شام تھی جب اپنے گھر گئے ہم تم
۔۔۔
اب اس سے آگے اندھیرا تھا صبح ہونے تک
چراغ جلنے لگے تھے ٹھہر گئے ہم تم
واپس جائیں