آدمی ہوں مٹی کا
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 102
پسند: 0
آدمی ہوں مٹی کا
ذائقہ ہوں پانی کا
۔۔۔
بے صدا مسافر ہوں
بے چراغ بستی کا
۔۔۔
اور میرے کاندھے پر
بوجھ خالی گٹھڑی کا
۔۔۔
کھِل رہا ہے نیزے پر
پُھول بانجھ دھرتی کا
۔۔۔
بارشوں کا سناٹا
اور خواب آندھی کا
۔۔۔
کھو گیا صداؤں میں
حرف بند مٹھی کا
۔۔۔
آگ سے نکالا گیا
ہاتھ جلتی لکڑی کا
۔۔۔
جیل کی فصیلوں پر
سایہ اُڑتے پنجھی کا
واپس جائیں