شکلیں ہیں پردوں کے لئے
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 73
پسند: 0
شکلیں ہیں پردوں کے لئے
پردے ہیں شعلوں کے لئے
۔۔۔
دن اور بدن کا ساتھ ہے
راتیں ہیں آنکھوں کے لئے
۔۔۔
میں اور سورج ایک ہیں
خالی مکانوں کے لئے
۔۔۔
کرنوں نے منظر لکھ دئیے
اُجڑے درختوں کے لئے
۔۔۔
پھیلے ہوئے ہیں آسماں
زخمی پرندوں کے لئے
۔۔۔
آؤ تو اب بھی وقت ہے
بیکار باتوں کے لئے
۔۔۔
کتنے ورق کالے کئے
دو چار لفظوں کے لئے
۔۔۔
دھرتی کھلونا بن گئی
بارش میں بچوں کے لئے
۔۔۔
رُکنا قیامت ہو گیا
مٹی میں بوندوں کے لئے
واپس جائیں