زبور ۱
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 155
پسند: 0
خدا نے مجھے جب ہے دیکھا اچانک
ہوا ازسرِ نو میں پیدا اچانک
...
قبولا ہے اس نے مری ہر خطا کو
میری ظلمتوں میں اتارا ضیاء کو
نیا اس نے مجھ کو بنایا اچانک
...
وہ رشتہ بشر سے یوں جوڑے ہوئے ہے
قبا موسموں کی وہ اوڑھے ہوئے ہے
ہے فطرت سے ہم نے یہ سیکھا اچانک
...
وہ ہم میں بسیرا کیا چاہتا ہے
وہ ساتھی ہمارا بنا چاہتا ہے
مجھے مل گیا یہ سہارا اچانک
واپس جائیں