شہید صبحوں کا ماتم روا نہیں لوگو (غزل)
حمید ہنری
مسیحی شاعری
مطالعات: 122
پسند: 0
شہید صبحوں کا ماتم روا نہیں لوگو
لہو کا جسدِ مقدس مرا نہیں لوگو
شکستِ خون کے قصے اچھالنے والو
سنو کہ خون کبھی بھی ہرا نہیں لوگو
لہو کے خلئے تو بنتے بگڑتے رہتے ہیں
حیاتِ خون کی قسمت فنا نہیں لوگو
لہو کبھی نہیں مٹتا کبھی نہیں مرتا
بدن کی موت لہو کی قضا نہیں لوگو
ابھی نہ پوچھنا ہم سے مسافتوں کا مآل
ابھی تو دھول سے چہرہ اٹا نہیں لوگو
جسے سمجھ کے خدا کی رضا قبول کیا
یقیں کرو وہ خدا کی رضا نہیں لوگو
واپس جائیں