خونِ یسوع میں ہے آج ڈوبی ہوئی
حمید ہنری
گیت
مطالعات: 131
پسند: 0
خونِ یسوع میں ہے آج ڈوبی ہوئی
کلوری، کلوری، کلوری، کلوری
بے سبب ہے مسیحا کو مارا گیا
تاج کانٹوں کا اس کو پہنایا گیا
دے دی اس نے ہے جاں اب ہے نوحہ کناں
زندگی، زندگی، زندگی، زندگی
چور زخموں سے سارا بدن ہے ہوا
بوجھ کاندھے پہ سولی کا بھی بڑھ گیا
ہر ستم ہے سہا اس کی دیکھو ذرا
بے بسی، بے بسی، بے بسی، بے بسی
ہر ستم کا مسیحا نشانہ بنا
رو رہے ہیں لہو آج ارض و سما
دیکھو فیضِ لہو کہ ہے اب چار ُسو
روشنی، روشنی، روشنی، روشنی
واپس جائیں