پہلے کھڑکی اے مری جانِ جگر کھولو گے
حمید ہنری
غزلیات
مطالعات: 154
پسند: 0
پہلے کھڑکی اے مری جانِ جگر کھولو گے
لوٹ جائیں گے صدا دے کے تو در کھولو گے
جب یہ ناخن ہی سلامت نہ رہیں گے لوگو
پھر گرہ ہائے شب و شام و سحر کھولو گے
اپنی پرواز پہ نازاں اے پرندو اب کے
دامِ صیاد میں آؤ گے تو پر کھولو گے؟
خون بہتا ہوا دیکھو، یہ تمہیں تاب کہاں
ڈوب جائے گا یہ منظر تو نظر کھولو گے
جب سروں سے ہی گزر جائے گا پانی لوگو
پھر بھی کیا بند زبانوں کے نہ در کھولو گے؟
تم تو مامور قصیدوں پہ رہے، پھر کیسے
بہرِ تفسیرِ جفا دستِ ہنر کھولو گے
تم پہ ہی آئے گا بیماریٔ دل کا الزام
فصدِ بیمارِ شبِ ہجر اگر کھولو گے
تم تو لگتے ہو زمانوں کے مسافر اے حمیدؔ
جانے کس موڑ پہ یہ رختِ سفر کھولو گے
واپس جائیں