گلتا کے شہر سے باہر نکل کر دیکھنا
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 145
پسند: 0
گلتا کے شہر سے باہر نکل کر دیکھنا
مشکل و دشوار منزل کا بھی منظر دیکھنا
۔۔۔
جادۂ طوق و سلاسل سے ہمیں دہشت نہیں
ہم مجاہد ہیں، ہمیں میداں میں آ کر دیکھنا
۔۔۔
ہیکلوں کے سائے میں ہے پاسباں تو محوِ خواب
خود فریبی کے حصاروں سے بھی باہر دیکھنا
۔۔۔
یوں بھی ہو سکتا ہے تیری کم یقینی کا علاج
زخم جو پسلی کا ہے انگلی سے چھُو کر دیکھنا
۔۔۔
قاتلوں کے پاس جا کر میرا سودا مت کرو
اپنی چوکھٹ پر کسی دن تم مرا سر دیکھنا
۔۔۔
عاشقی کی بھیک لینے جائے گا میرا لہو
میرے پہلو میں کبھی نیزہ چبھو کر دیکھنا
۔۔۔
بدگمانی کے نہ پتھر اے عدو مجھ پر اُچھال
رنگِ دل میرا، مرے اشعار پڑھ کے دیکھنا
۔۔۔
صاف گوئی پر تری، حاسد حریفوں نے شررؔ
آستینوں میں چھپا رکھے ہیں خنجر دیکھنا
واپس جائیں