دم بخود چلتا ہی جاتا تھا صلیبوں کا خُدا
گرتا، اُٹھتا، ڈگمگاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
تھی نکیلی سطح، رہ پتھریلی اور اونچا پہاڑ
ہانپتا بڑھتا ہی جاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
راہ میں تھک کر گرا گھٹنوں کے بل گر کر اُٹھا
پیٹھ پر کوڑے بھی کھاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
سولیوں کی گود میں تکیہ تھا کانٹوں کا ملا
سیج نیزوں کی بچھاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
ہولے ہولے جسم میں چبھتی تھی نیزوں کی اَنی
خون کی شبنم گراتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
گالیاں، لعنت ملامت، طعن ٹھٹھے اور مذاق
کس قدر ذلت اُٹھاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
ہو رہی تھی کشمکش جب زندگی اور موت میں
موت کو آنکھیں دکھاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
عدن میں ننگا ہوا تھا نسلِ آدم کا وجود
اس کی ذلت کو چھپاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
آلِ آدم کو گناہوں سے بچانے کے لئے
خون بیٹے کا بہاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
چشمِ فطرت سے چلی آتی تھی اشکوں کی برات
خون کی مہندی لگاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
کلوری پر دے کے اپنی جاں رہِ تسلیم میں
جان کا فدیہ چُکاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
مُردہ دل کو زندگی کا خون دینے کے لئے
خون و جاں اپنی لٹاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
ہر طرف اُٹھتی رہی اُجلی اُمیدوں کی کرن
شمع یزدانی جلاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
کس قدر پاکیزگی تھی سولیوں کے ساتھ ساتھ
نور کی چادر بچھاتا تھا صلیبوں کا خُدا
۔۔۔
وہ مسیحائے زماں فخرِ بشر فخرِ شررؔ
نسل انساں کو بچاتا تھا صلیبوں کا خُدا