ہم نے صحراؤں کو جس نُور سے گلزار کیا
کس نے اِس نور پہ پیوند لگا رکھے ہیں
دیپ جو عظمتِ انجیل کے جلتے تھے کبھی
ہائے پیمانوں کے نیچے وہ چھپا رکھے ہیں
۔۔۔
شہرِ صیحون کے ویران گھروندے کی قسم
آج ہیکل کے بڑے لوگ بڑے لوگ نہیں
تفرقے، بغض و عداوت، حسد و حرص و جفا
کونسا گرجا ہے جس گرجے میں یہ روگ نہیں
۔۔۔
آج رو رو کے صلیبیں بھی دُعا مانگتی ہیں
سوزِ ایمان سے آغازِ جنوں آج کریں
سر پہ کانٹوں کو دھریں تیر سہیں پسلی میں
بن میں عابد نہیں وہ ہیکلیں تاراج کریں