شاعری مے تو نہیں جو اُتر جائے گی
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 120
پسند: 0
شاعری مے تو نہیں جو اُتر جائے گی
جتنا تڑپاؤ گے یہ اَور نکھر جائے گی
۔۔۔
قتل کر ڈالو یا نیزوں پہ اُچھالو مجھ کو
جادۂ حق پہ میری عمر گزر جائے گی
۔۔۔
اے میرے شعلۂ غم مری انا زندہ ہے
میں اُدھر جاؤں گا یہ دار جدھر جائے گی
۔۔۔
ارضِ کنعاں کو کروں گا میں لہو سے سیراب
ہر کلی باغِ مسیحا کی نکھر جائے گی
۔۔۔
اپنی کم فہمی کی ہیکل میں ہے خوابیدہ تُو
عمر بے کار تری یوں ہی گزر جائے گی
۔۔۔
جتنے فرسودہ ہیں اس قوم میں رہبر یارو
اُن کی تقدیس کی چادر بھی اُتر جائے گی
۔۔۔
اے یہوواہ میرا گتسمنی میں لے لے بوسہ
ہے کسے ڈر کہ میری قوم بکھر جائے گی
۔۔۔
غیر کے ہاتھ مجھے بیچ دو، مصلوب کرو
میری ہر حال میں تقدیر سنور جائے گی
۔۔۔
ہے فن کار شررؔ شعلہ نوائی کے طفیل
تیرے پیغام کی ہر گھر میں خبر جائے گی
واپس جائیں