سر پہ آفات کا طوفان ہے اب کروس اُٹھا
نوعِ انساں بھی پریشان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
اہلِ صیحون کی لاشیں ہیں لہو میں لت پت
خونچکاں خطۂ لبنان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
دار پر مرنے کا ہے وقت، نہ تاریخ، نہ دن
خوں میں ڈوبا ہوا کنعان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
تجھ سے للکار کے یہ کہتی ہے ہر موجِ گلیل
کروس ہر درد کا درمان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
شام دیواروں پہ ڈھل کر یہ صدا دیتی ہے
باغِ گتسمنی پریشان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
گرجے ویران ہیں واعظ تری نادانی سے
سُونا سُونا سا گلستان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
قوم صحرا میں بھٹک جائے نہ بھیڑوں کی طرح
حق پہ یلغار کا اعلان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
سولیاں گرجوں میں پہلے نہ کبھی چیخی تھیں
کلوری کس لئے سنسنان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
گھپ اندھیرے میں چمکتی ہے کرن سورج کی
موت خود جینے کا سامان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
مر کے تو خاک سے، سورج کی طرح اُبھرے گا
تیرا ایمان، یہ ایمان ہے، اب کروس اُٹھا
۔۔۔
تم میرے ہاتھ نہ چومو تو یہ ناشکری ہے
میرے ہر شعر کا عنوان ہے اب کروس اُٹھا
۔۔۔
اے شررؔ عشق کے اسرار کی تصویر ہے تو
عشق کو عشق کا فرمان ہے اب کروس اُٹھا