اب نہیں ممکن تو کل ہو گا ضرور
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
اب نہیں ممکن تو کل ہو گا ضرور
فیصلہ لیکن اٹل ہو گا ضرور
۔۔۔
نا اُمیدی، مشکلیں، مایوسیاں
کچھ نہ کچھ آخر تو حل ہو گا ضرور
۔۔۔
اب مسیحیت اُٹھائے گی صلیب
اِس قدر تو اِس میں بَل ہو گا ضرور
۔۔۔
ناچتا ہے سامریت کا وجود
ہیکلوں میں کچھ خلل ہو گا ضرور
۔۔۔
ہم نے جینے کا کیا ہے فیصلہ
ہر قدم اب برمحل ہو گا ضرور
۔۔۔
اے شررؔ جو ترجمانِ قوم ہو
شعر وہ جانِ غزل ہو گا ضرور
واپس جائیں