صلیبوں پر نہ بھر آہیں غم کی
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 131
پسند: 0
صلیبوں پر نہ بھر آہیں غم کی
بہت قیمت ہے خون کے موتیوں کی
۔۔۔
ہے شہرِ گلگتا منزل ہماری
سُبک رفتار ہے کیوں قافلوں کی
۔۔۔
جو کل رہبر تھے کنعانِ یقیں کے
ہیں میت آج وہ محرومیوں کی
۔۔۔
یہوداو! اُٹھو پاؤں سکیڑو
ہے چادر مختصر گنجایشوں کی
۔۔۔
نہیں ہم بے خبر اپنی بقا سے
ہے آمد کلوری کے موسموں کی
۔۔۔
بڑھے جائیں گے ہم مثلِ ستفنس
اگر برسات بھی ہو پتھروں کی
۔۔۔
شررؔ تُو اپنے فیضانِ سخن سے
بدل سکتا ہے حالت بزدلوں کی
واپس جائیں