زیرِ پیمانہ چراغوں کو چراغاں نہ کرو
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 107
پسند: 0
زیرِ پیمانہ چراغوں کو چراغاں نہ کرو
ہیکلیں پہلے ہی چُپ ہیں اُنہیں ویراں نہ کرو
۔۔۔
موڑ سکتا ہوں میں ایمان سے طوفان کا رُخ
ناخدا بن کے مرے عزم پہ احساں نہ کرو
۔۔۔
مجھے لیلائے حقیقت کا بھرم رکھنا ہے
اس قدر جلد مرا چاک گریباں نہ کرو
۔۔۔
ہائے ہم لوگ اُٹھاتے ہیں مُرادوں کی صلیب
کلوری رو کے یہ کہتی ہے پریشاں نہ کرو
۔۔۔
میں وہ راہی ہوں جسے ڈھونڈے گی منزل منزل
میری بربادی کے اسے مشکلو! ساماں نہ کرو
۔۔۔
زندگی بھر میرے غم خانے سے تم دُور رہے
قبر پر بہرِ خدا میری، چراغاں نہ کرو
۔۔۔
برملا آج یہ کہتی ہے شرر ہم سے صلیب
میری موجودگی میں شمع فروزاں نہ کرو
واپس جائیں