اول آخر، ابتدا و انتہا پیدا ہوا
گریفن جونز شرر
غزلیات
مسیحی شاعری
مطالعات: 192
پسند: 0
اول آخر، ابتدا و انتہا پیدا ہوا
شکل میں انساں کی دیکھو خدا پیدا ہوا
۔۔۔
ڈگمگاتی زندگی میں حوصلہ پیدا ہوا
بے کسوں کی بے کسی کا آسرا پیدا ہوا
۔۔۔
اب مٹیں گے تفرقے توحید کے تثلیث سے
کلمہ و روحِ خدا کا سلسلہ پیدا ہوا
۔۔۔
حضرتِ داؤد کی آلِ مبارک پر سلام
بطنِ مریم سے خدا کا لاڈلا پیدا ہوا
۔۔۔
اب تو جانیں گے خدائے کن فکاں کے راز کو
میں ہوں جو ہوں، کا ہے جو عقدہ کشا پیدا ہوا
۔۔۔
چیختے ہیں گاؤں گاؤں سب اسیرانِ الم
غمگسارو! غم کدہ میں غم ربا پیدا ہوا
واپس جائیں