سولی کندھے پہ لئے پھرتا ہوں بازاروں میں
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 109
پسند: 0
سولی کندھے پہ لئے پھرتا ہوں بازاروں میں
تذکرے ہوتے ہیں بیگانوں میں اغیاروں میں
۔۔۔
میرے غم خانہ میں کیا آگ لگائے کوئی
میں تو خود جلتا ہوں احساس کے انگاروں میں
۔۔۔
خون ٹپکاؤں گا ملت کے تحفظ کے لئے
شہر کی گلیوں میں، کھلیانوں میں، بازاروں میں
۔۔۔
آلِ اضحاق کی چوکھٹ پہ لگا دوں گا لہو
شور مچ جائے گا فرعون کے درباروں میں
۔۔۔
رہبرو! قوم کے ایماں کو نہ مفلوج کرو
قوم سرگرداں ہے مدت سے تپش زاروں میں
۔۔۔
میں مروں گا تو بُرا چاہنے والے میرا
دفن ہو جائیں گے ظلمات کی دیواروں میں
۔۔۔
جُز شررؔ تیرے نہ رہبر ہے نہ حقداں کوئی
تجھ سا کوئی نہ ملا قوم کے فن کاروں میں
واپس جائیں