لوگ اب کرتے ہیں محسوس ضرورت میری
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 121
پسند: 0
لوگ اب کرتے ہیں محسوس ضرورت میری
رنگ لانے لگی بے باک فراست میری
۔۔۔
مجھ پہ پتھراؤ کیا قوم کے منادوں نے
اور زخموں سے ٹپکتی گئی اُلفت میری
۔۔۔
چھین لی دار مری مجھ سے تو محسوس ہوا
چھن گئی جیسے میرے ہاتھ سے جنت میری
۔۔۔
مجھ کو خائف نہیں کر سکتے فقیہانِ زماں
کھیلنا وقت کے طوفاں سے ہے فطرت میری
۔۔۔
گالیاں جو بھی پڑیں، دھمکیاں جو بھی مل جائیں
دامنِ عفو میں رکھ لینا ہے عادت میری
۔۔۔
میرے ماتھے پہ نہ آئے گی شکن خفگی کی
زخم سہ سہ کے دُعا دینا ہے خصلت میری
۔۔۔
میں اسی خاک سے سورج کی طرح چمکوں گا
بعد مرنے کے جِلا پائے گی شہرت میری
۔۔۔
میں صداقت کی بھڑکتی ہوئی آتش ہوں شررؔ
کم نظر دیکھ نہ پائیں گے کرامت میری
واپس جائیں