زرد پتوں کی طرح گر کر بکھرتے جائیں گے
ہم حصارِ غم میں اُجڑے ہیں اُجڑتے جائیں گے
۔۔۔
ہر نئے لمحے میں جینے کی دُعا مانگیں گے ہم
ہر دُعا کے بعد جینے کو ترستے جائیں گے
۔۔۔
اب تو آساں بھی نہ ہو گی زندگی اے دوستو
بے ثمر زخموں کی سولی پر لٹکتے جائیں گے
۔۔۔
درس گاہوں میں اُبھر آیا حدیثوں کا وجود
آدمیت کے نئے سانچوں میں ڈھلتے جائیں گے
۔۔۔
ہم نے رنگ و نور مانگا پر ملی ہم کو خزاں
ہم خزاں کی آگ میں تپ کر نکھرتے جائیں گے
۔۔۔
ہو صلیب اپنے مقابل یا جہنم سامنے
منزلِ حق کی طرف ہر آن بڑھتے جائیں گے
۔۔۔
زد میں سیلابوں کی آ کر ہم نہ لوٹیں گے کبھی
ڈوب کر اپنے لہو میں بھی اُبھرتے جائیں گے
۔۔۔
چاند سے بیتِ لحم کے ہم شعاعیں مانگ کر
دل کی تیرہ وسعتوں میں نور بھرتے جائیں گے
۔۔۔
وقت کے فرعون نے لوٹا ہے ملت کا سہاگ
بے سرو سامان قلزم میں اُترتے جائیں گے
۔۔۔
دھندلے کنعاں کے اُجالے چومنے کے واسطے
ہم اندھیری دلدلوں سے بھی گزرتے جائیں گے
۔۔۔
جانتے ہیں خاکِ منزل ہے جبینوں کا نصیب
طالبانِ زندگی گر گر کے چلتے جائیں گے
۔۔۔
بُجھ رہے ہیں ہیکلوں کے کیوں شررؔ مدھم چراغ
جذبِ دل اپنا سلامت ہے تو جلتے جائیں گے