میں حیراں ہوں ہماری ابتدا کیا انتہا کیا ہے
حضورِ ابنِ آدم زندگی کا مدعا کیا ہے
۔۔۔
صداقت آخری ہچکی سے ہےدم توڑنے والی
کلیساؤں میں اب جنسِ عداوت کے سوا کیا ہے
۔۔۔
بظاہر جو سجا لیتے ہیں جُبوں کو صلیبوں سے
بتائیں گلگتا سے کلوری کا فاصلہ کیا ہے
۔۔۔
جو کہتے ہیں، مسیحا جان کر دیں گے فدا تم پر
نہیں معلوم ان کو معنئ رسمِ وفا کیا ہے
۔۔۔
نرالا ہے خدایا نطق تیرے برگزیدوں کا
گماں ہوتا ہے تیرا ان پہ، آخر یہ ادا کیا ہے
۔۔۔
ابھی تک اکتفا کرتا ہے، "ربانی دُعا" پر تو
بتا اے پاسباں سولی پہ مرنے کی دُعا کیا ہے
۔۔۔
شریعت کے امیں ہیکل کی چوکھٹ کے پرستارو
کبھی دیکھا بھی ہے گرجوں میں آخر ہو رہا کیا ہے
۔۔۔
کہیں قتلِ یوحنا ہے کہیں نیلامِ یوسف ہے
خدایا تیری ملت میں خصومت کے سوا کیا ہے
۔۔۔
یہ عابد جمع ہیں جو سایۂ دیوارِ گریہ میں
کوئی پوچھے تو ان سے آنسوؤں کا مدعا کیا ہے
۔۔۔
صحیفوں کے علمبردار ہی کچھ روشنی ڈالیں
جو تُل کر کم نکلتے ہیں بھلا اُن کی سزا کیا ہے
۔۔۔
شررؔ باغی ہے لیکن رات کو دن کہہ نہیں سکتا
بتا اے پادری اس کی سزا کیا ہے جزا کیا ہے