یہ طوفانوں سے ہے آتی صدا تم دیکھتے جاؤ
ڈبو دیں گے ہمیں خود ناخدا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
صلیبیں گرد آلودہ چھپا رکھیں گے ہیکل میں
ہمارے پاسبان و رہنما تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
دلوں میں کینہ و نفرت کا جذبہ اور زبانوں پر
ریاکارانہ ہو گی ہر دُعا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
بھروسہ غیر ممکن ہے ہمیں باغی فرشتوں پر
سمجھتے ہیں کہ وہ خود ہیں خدا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
ہیں کیوں یہ بے خبر اندھے خدا شہرِ عمورہ میں
نشیمن جل رہا ہے برملا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
اندھیرے مقبروں میں نعرۂ تثلیث کیا مطلب
گھِری عصیاں میں ہے عقل و انا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
بہت دلدوز ہوں گی سسکیاں کوۓ غریباں کی
فسوں فرعون کا دیں گی مٹا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
لئے کشکولِ ایماں ہم لہو کی بھیک مانگیں گے
بدن کو لیں گے زخموں سے سجا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
مقامِ کلوری ہی سُرخ رُو ہو گا زمانے میں
چڑھے گا دار پر ابنِ خدا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
مجھے میرے عزیزوں نے صلیبِ غم پہ کھینچا ہے
میری پسلی میں بھی نیزہ چبھا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
وہی اُجڑے ہوئے صیحون کی تاریخ بدلیں گے
جو دیں گے خوں سے سولی کو جِلا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
نئی منزل پہ جائیں گے نیا عزم و یقیں لے کر
نئی ہو گی ہماری ابتدا تم دیکھتے جاؤ
۔۔۔
اُچھالیں گے جو پتھر بدگمانی کے شررؔ ہم پر
بہت ہے مختصر اُن کی بقا تم دیکھتے جاؤ