ہے ہر بندہ ہراساں اور پریشاں ہم یہ کہتے ہیں
اُجڑنے کو ہے اب شامِ غریباں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
چمن میں سُرخ تاریکی کی لہریں دیکھنے والو
لہو ہے یہ، نہیں ابرِ بہاراں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
جنہیں دعویٰ ہے ناموسِ کلیسا کے تحفظ کا
وہ خود آپس میں ہیں دست و گریباں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
صلیبیں گلگتا کی سرزمیں پہ پھینکنے والو
اکارت جائے گا خونِ شہیداں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
جہاں میں کشتئ روحِ شرافت ڈگمگائے گی
بِکے گا آدمیت کا بھی ایماں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
خدا کی بادشاہی کی طلب ہو تو وفادارو
صلیب اپنی اُٹھا کر ہو خراماں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
ادھر فرعون کا خدشہ ادھر قلزم کی گہرائی
یہاں ہیں ہر طرف زنداں ہی زنداں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
بہارِ رنگ و بو کو اپنے دل میں پوجنے والو
بدل جائے گا اندازِ گلستاں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
ہمیں لاشوں کے دفنانے کی مہلت مل نہ پائے گی
مٹے گی ہر گلی میں نوعِ انساں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔۔
نہ کوئی چارہ گر ہو گا نہ کوئی راہنما ہو گا
سئیں گے خود ہی کانٹوں سے گریباں ہم یہ کہتے ہیں
۔۔۔
شررؔ قربان ہوتے ہیں اُٹھا کر جو صلیب اپنی
وہی ہیں قوم و ملت کے دل و جاں ہم یہ کہتے ہیں