جادۂ حق پہ چلے ہیں تو یہ کرنا ہوگا
جاں نثاری کے لئے دار پہ مرنا ہوگا
۔۔۔
خواب کے زینوں سے مہتاب پہ جانے والو
کل تمہیں جھوٹی بلندی سے اُترنا ہوگا
۔۔۔
ریت کے ڈھیر پہ تعمیر ہے ملت کا محل
اس کا سیلاب کی موجوں سے بکھرنا ہوگا
۔۔۔
ہر نئے موڑ پہ کچھ سوچ کے رکھنا ہے قدم
ہر گزر گاہ سے بے خوف گزرنا ہو گا
۔۔۔
قافلے والو! جدا ہو کے بکھر جاؤ گے
آئے دریا بھی تو مل جل کے اُترنا ہوگا
۔۔۔
دل کے زخموں سے اگر پھول کھلانے ہیں ہمیں
لب پہ سچائی کی کلیوں کو سنورنا ہو گا
۔۔۔
ہم ہیں وہ بیج جو راہوں کے کنارے پہ گرا
پیٹ چڑیوں کو اِسی بیج سے بھرنا ہو گا
۔۔۔
تُند موجوں کی کشاکش میں ہے کشتی اپنی
عزم کہتا ہے کہ ساحل پہ اُترنا ہوگا
۔۔۔
دار و تثلیث کا پیغام سنانے والو
تاج کانٹوں کا بھی سر پہ تمہیں دھرنا ہو گا
۔۔۔
کیل ہاتھوں میں چُبھیں نیزے لگیں پسلی میں
منزلِ دار سے اِس طرح گزرنا ہوگا
۔۔۔
میری بربادی کے منصوبے بنانے والو
میں شررؔ ہوں مری لَو پر تمہیں مرنا ہوگا