چاہِ زنداں میں پڑا ہوں تو پڑا رہنے دو
دار تک آ کے اُٹھا ہوں تو اُٹھا رہنے دو
۔۔۔
میرے بچنے کی نہ گرجوں میں دُعائیں مانگو
میں صلیبوں میں گھِرا ہوں تو گھِرا رہنے دو
۔۔۔
میرا مِٹنا بھی علامت ہے اُبھر آنے کی
رات کی رات تو سورج کو چھپا رہنے دو
۔۔۔
کتنی سنگین ہواؤں کے مقابل آ کر
نہ بُجھا ہے نہ بجھے گا یہ دِیا رہنے دو
۔۔۔
اُٹھ گیا میں تو اُجالوں میں تصادم ہو گا
ہے اندھیروں میں اگر حشر بپا رہنے دو
۔۔۔
نہ کرو مائلِ فریاد مجھے اب میں نے
سِی لئے ہونٹ تو ہونٹوں کو سِلا رہنے دو
۔۔۔
اس کے انوار میں پولوس جنم لیتے ہیں
میری پیغام جُدا ہے تو جُدا رہنے دو
۔۔۔
ہیکلیں لاشوں کی میزان لئے بیٹھی ہیں
پاسبانوں کو بھی مُردوں سے گھِرا رہنے دو
۔۔۔
ہر شجر پر ہیں یہاں سانپ کے بچوں کے ہجوم
عدن ویران پڑا ہے تو پڑا رہنے دو
۔۔۔
خون سے اور بھی روشن ہیں صلیبوں کے نشاں
تیر پسلی میں چبھا ہے تو چبھا رہنے دو
۔۔۔
تم نے سو بار ترازو میں مجھے تولا ہے
میرا پلڑا ہی جھُکا ہے تو جھکا رہنے دو
۔۔۔
سفرِ شب کا تقاضا ہے شررؔ ساتھ رہیں
دوست دشمن سے ملا ہے تو ملا رہنے دو