تم جھوٹی قیادت کا جنازہ تو اُٹھاؤ
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 171
پسند: 0
تم جھوٹی قیادت کا جنازہ تو اُٹھاؤ
سچے ہو اگر کروس اُٹھا کر بھی دکھاؤ
۔۔۔
فتنے کبھی بیدار، قیامت کبھی برپا
ہیکل میں شب و روز شگونے نہ کھلاؤ
۔۔۔
ربانی دُعا ہی نہیں ہر درد کا درماں
لازم ہے عمل کے دئیے پلکوں پہ سجاؤ
۔۔۔
تم یوسفِ کنعاں ہو اُتر جاؤ کنویں میں
سقراط اگر ہو تو کہو زہر پلاؤ
۔۔۔
انجیل کے توریت کے وارث ہو اگر تم
بے نور دِلوں میں بھی کوئی شمع جلاؤ
۔۔۔
تم کیسے مسیحا ہو کہ چارہ نہیں کرتے
جب کُشتۂ غم کہتے ہیں اعجاز دکھاؤ
۔۔۔
اس قوم کی تکمیلِ تمنا کے نقیبو!
بے سُود خدا کے لئے ڈفلی نہ بجاؤ
۔۔۔
ملت میں صداقت کی تہیں کھوجنے والو
خود اپنے بھی چہروں سے نقابوں کو اُٹھاؤ
۔۔۔
جس آگ سے مل جائے جِلا فکر کو فن کو
وہ آگ شررؔ آج لہو دے کے جلاؤ
واپس جائیں