بھر دوں گا فضل سے ایسے تجھ کو
ارنسٹ مل
گیت
مطالعات: 150
پسند: 0
بھر دوں گا فضل سے ایسے تجھ کو
جیسے فضل سے ہوں میں بھرا
میں ہوں یہوواہ اور خداوند
روح کا روپ لئے ہوں کھڑا
۱
آنکھیں دیکھتی تجھ کو ہر دم
کان دعائیں سنتے
تیری صورت میری ہتھیلی
رشک فرشتے کرتے
ایسی محبت کم ہو کیسے
جس کے لئے میرا بیٹا مرا
۲
خون کے دھاروں سے ہے سنورا
تیرا میرا رشتہ
پریم کے دھاگوں میں ہے پرویا
ہر اک پاک نوشتہ
چھینٹے لہو کے کہتے جائیں
ابا یہوواہ ہوں میں تیرا
۳
دیکھنا چاہے گر تو مجھ کو
یسوع مسیح کو تکنا
چھونا چاہے میری قبا تو
پاک کلام کو پڑھنا
روح کے پھلوں سے آ میں سجاؤں
جیسے انگوٹھی میں ہیرا جڑا
واپس جائیں