اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

اولاد، انصاف، بچے، خاندان، سنڈے اسکول، عورت، ماں

بچوں پر اپنے مقاصد ٹھونسنا

3 15 Jun, 2026
یہ موسمِ خزاں کا ایک سرد مگر خوشگوار دن تھا۔ ہلکی ہلکی بارش کے باوجود، گھر واپسی (homecoming) کا وہ دن اِنتہائی پُر رونق تھا جو مغربی پنسلوانیا کا ایک روایتی انداز ہے۔ بینڈ بج رہا تھا۔ ’فیوچر فارمرز آف امریکہ‘ سے لے کر ’ویٹرنز آف فارن وارز‘ تک، ہر دستہ پریڈ کے راستے پر مارچ کر رہا تھا۔ ہم اپنی چھتری کے نیچے سردی محسوس کر رہے تھے، لیکن اِس دیسی اور روایتی تفریح کو چھوڑ کر بھلا کون جا سکتا تھا؟ پریڈ کے اِختتام پر تین سے پانچ سال کی عُمر کی چھوٹی لڑکیوں کا ایک طائفہ تھا۔ عقب کے قریب موجود ایک لڑکی نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ وہ عُمر میں تین سال سے بھی کم دکھائی دیتی تھی۔ اُس کے مختصر سے لباس نے اُس کے جسم کو سرد موسم کے رحم و کرم پر چھوڑ دِیا تھا۔ وہ رو رہی تھی۔ جیسے ہی وہ دستہ بارش کی بونداباندی میں آگے بڑھا، وہ بار بار اپنی ترتیب توڑ کر اپنی ماں کی طرف بھاگتی۔ لیکن وہاں کوئی تسکین موجود نہ تھی۔ اُس کی ماں مسلسل اسے واپس دستے میں اُس کی جگہ پر دھکیل دیتی۔ مَیں اِس ننھی بچّی کی آنکھوں میں موجود مایوسی اور الجھن کے اُس احساس کو کبھی نہیں بھول سکتا جب وہ سسکیاں لیتے ہوئے ہمارے پاس سے گزری۔ اِس ماں کے افعال والدینی تربیت کے کچھ مخصوص اہداف کو واضح کرتے تھے۔ ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ چاہتی تھی کہ اُس کی بیٹی خوبصورت نظر آئے اور لوگ اسے پسند کریں۔ وہ یہ اچھّی طرح جانتی تھی کہ اپنے بچپن کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے بچّے کو تیار کرنے کا کام اِنتہائی کم عمری سے ہی شروع کر دینا چاہیے۔ یہ بات ماں کے لئے بہت اَہم تھی۔ ماں کے اِس ایجنڈے کو سمجھنے، یا یہ تصور کرنے کے لئے کہ اِس لڑکی نے اپنا بچپن کیسے گزارا، کسی اِنتہائی گہرے تخیل کی ضرورت نہیں ہے۔ مَیں اِس مذکورہ ماں کو ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ مَیں اُس کے اِن مخصوص اہداف سے پوری طرح باخبر نہیں ہوں اور نہ ہی یہ جانتا ہوں کہ وہ اُن محرکات کے حوالے سے کتنی باشعور تھی جنہوں نے اسے اِس بات پر مجبور کِیا کہ وہ قربانیاں دے، دستے کے ساتھ ساتھ جھک کر بھاگے، اور اپنے بچّے کو چھڑی اچھّی طرح پکڑنے اور قطار میں رہنے کی تاکید کرے۔ لیکن مَیں اِس بات پر پُورا یقین رکھتا ہوں کہ اُس کی اپنی بیٹی کے لئے کچھ مخصوص اہداف تھے۔ ہم سب کے ہوتے ہیں۔ اَیسے مقاصد موجود ہوتے ہیں جو بچوں کی پرورش کے دَوران ہمارے اِنتخابات کی رہنمائی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے اہداف کو واضح الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں، جبکہ دُوزسرے اہداف والدین کے اِنتخابات سے خودبخود ظاہر ہو جاتے ہیں۔