اِس بات کو ایک تمثیل سے سمجھئے، امریکہ ریاست پنسلوانیا میں، جہاں مَیں رہتا ہوں، قانون اسکولوں کے لئے یہ لازمی قرار دیتا ہے کہ وہ بچوں پر ہونے والے کسی بھی قسم کے مبینہ تشدد یا بدسلوکی کی رپورٹ فوراً درج کروائیں۔ یہ قانون صرف رپورٹ درج کروانے کا حق ہی فراہم نہیں کرتا، بلکہ یہ اِس بات کا سختی سے مطالبہ کرتا ہے کہ اَیسی رپورٹ ہر حال میں درج کروائی جائے۔ اسکول کے اِنتظامی عہدیدار کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا کوئی ذاتی اِختیار نہیں ہوتا کہ وہ اِس بدسلوکی کی رپورٹ درج کروائے یا نہ کروائے۔ قانون اِسے اَیسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بالکل اِسی طرح، یہ حقیقت کہ خُدا نے آپ کو اپنے بچوں کی الٰہی تربیت کے لئے ایک اِختیار کے طور پر بلایا ہے، آپ کو نہ صرف اِس تربیت کا اِصلی حق بخشتی ہے، بلکہ آپ پر اِس پرورش کی پُوری ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔
اسکول کے ایک اِنتظامی عہدیدار کے طور پر، مَیں اکثر یہ مشاہدہ کرتا ہوں کہ بیشتر والدین اپنے بچّے کی زندگی میں ایک سچا مختار بننے کے اِس الٰہی جواز اور اشد ضرورت کو تفہیم کے ساتھ نہیں سمجھتے۔ اِس کے برعکس، والدین محض ایک مشیر یا ایڈوائزر کا کمزور کردار اِختیار کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بہت کم والدین اَیسا کہنے کی رُوحانی ہمت رکھتے ہیں کہ، ”مَیں نے تمہارے ناشتے کے لئے دلیہ تیار کِیا ہے۔ یہ ایک اِنتہائی عمدہ اور غذائیت سے بھرپور خوراک ہے اور مَیں چاہتا ہوں کہ تم اِسے کھاؤ۔ ہو سکتا ہے پھر کسی صبح میں ہم کوئی اَیسی چیز بنا لیں جو تمہیں زیادہ پسند ہو۔“ اِس کے برعکس، زیادہ تر والدین بچوں کے سامنے یوں کہہ رہے ہوتے ہیں، ”بیٹا! آپ ناشتے میں کیا کھانا پسند کرو گے؟ آپ کو میرا بنایا ہُوا دلیہ نہیں کھانا، کیا آپ کچھ اَور لینا چاہو گے؟“ یہ باتیں سُننے میں تو اِنتہائی پرکشش ، نرم اور جدید لگتی ہیں، لیکن یہاں حقیقت میں کیا رونما ہو رہا ہے؟ بچّہ اِبتدا ہی سے یہ سیکھ رہا ہوتا ہے کہ اصل فیصلہ ساز تو وہ خود ہی ہے۔ والدین کا کام تو صرف مختلف اِختیارات سامنے لا کر مشورہ دینا ہے۔
یہی منظرنامہ چھوٹے بچوں کی زِندگیوں میں لباس کے اِنتخاب، روزمرہ کے اوقاتِ کار کی ترتیب، اور فارغ وقت کے مشاغل کے اِنتخاب وغیرہ میں بار بار دُہرایا جاتا ہے۔ جب تک بچّہ چھ، آٹھ یا دس سال کی عمر تک پہنچتا ہے، وہ خود اپنا حاکم بن چکا ہوتا ہے۔ اور تیرہ سال کی عُمر تک پہنچتے پہنچتے وہ بچّہ والدین کے قابو سے بالکل باہر ہو جاتا ہے۔ اب والدین اِنتہائی مایوسی اور غصے میں آ کر بچوں کی منت سماجت کر سکتے ہیں، گڑگڑا سکتے ہیں، اِصرار کر سکتے ہیں، چیخ چلا سکتے ہیں اور دھمکیاں بھی دے سکتے ہیں، لیکن وہ بچّہ تو کب کا خود اپنا حاکم بن چکا ہوتا ہے۔ والدین بہت پہلے ہی بچّے کی زِندگی میں فیصلے کرنے کا اپنا وہ اعلیٰ اور الٰہی حق کھو چکے ہوتے ہیں۔ یہ سب کیسے ہُوا؟ یہ خرابی اِنتہائی کم عمری میں ہی دِبے پاؤں گھر کے اندر داخل ہوئی تھی، جب والدین نے ہر فیصلے کو بچّے کے سامنے ایک اَیسا دسترخوان بنا کر رکھ دِیا تھا جس میں سے ہر چیز کا حتمی اِنتخاب خود بچّے کو ہی کرنا تھا۔
کچھ لوگ شاید یہ دلیل دیں کہ، ”بچے فیصلے کرنا صرف اِسی صورت میں سیکھتے ہیں جب والدین اُنہیں خود فیصلے کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ہم تو بچوں کو اچھّے اور پائیدار فیصلے کرنا سکھانا چاہتے ہیں۔“ اَیسی سوچ اِس پورے معاملے کے سب سے اَہم اور مرکزی نقطے کو یکسر چھوڑ دیتی ہے۔ بچے اچھّے فیصلہ ساز صرف اُسی وقت بنیں گے جب وہ اپنے وفادار والدین کو اُن کی زِندگی کے لئے دانشمندانہ ہدایات دیتے اور اُن کی جانب سے اچھّے فیصلے کرتے ہوئے ایک زِندہ نمونے کے طور پر دیکھیں گے۔