مَیں حال ہی میں اپنے دفتر میں ایک ایسے باپ کے ساتھ بیٹھا تھا جو اپنے بیٹے پر اِس قدر غصے میں تھا کہ اُس کے لیے تہذیب کے دائرے میں رہنا بھی بہت دشوار تھا۔ وہ اپنے بیٹے کے اندر موجود اُن زبردست روحانی ضرورتوں کو دیکھنے سے قاصر تھا جنہیں پورا کرنے کے لیے خُدا نے منفرد طور پر اُسے اِس منصب پر کھڑا کِیا تھا۔ اُن کے تعلقات میں کوئی نرمی نہیں تھی، یہاں تک کہ کوئی محبت و شفقت کا شائبہ تک نہیں تھا۔ بلکہ وہاں ایک تناؤ ، دُوری اور فاصلہ تھا۔ ایک موقع پر وہ باپ اپنے بیٹے سے اُس کے رزلٹ کارڈ کے بارے میں بات کرنے کے لیے اُٹھا۔ وہ اپنے بیٹے کی کرسی کے پاس گیا اور وہ فیل ہونے والا رزلٹ کارڈ اُس کے چہرے کے سامنے لہرا کر بولا، ”تمہاری یہ جرأت کہ میرے ساتھ یہ کرو، باوجود اِس کے کہ مَیں نے تمہارے لیے کیا کیا کچھ نہیں کِیا!“ اُس کے نزدیک، وہ بُرے گریڈز اُس کی ذاتی توہین تھے۔ اُس کی نظر میں اِس نظام کو یوں نہیں چلنا چاہیے تھا۔ اُس نے اپنا کام کر دیا تھا، اب بیٹے کو اپنا کام کرنا تھا البتہ ایک بات ضرور تھی کہ وہ اپنے بیٹے سے نالاں تو تھا، مگر خُدا کے خلاف اُس کے گناہ کی وجہ سے نہیں۔ وہ اِس لیے غصے میں تھا کیونکہ اُس کے بیٹے نے ایک باپ کے طور پر اُس سے وہ چیزیں چھین لی تھیں جنہیں وہ بہت عزیز رکھتا تھا یعنی ایک کامیاب مسیحی باپ کے طور پر اُس کی شہرت، وہ عزت جس کا وہ خود کو حقدار سمجھتا تھا، اور وہ سکون و راحت جو اُس کے خیال میں جوانی کی عمر کو پہنچنے والے بچوں کے ساتھ بالآخر اُسے حاصل ہو جانی چاہیے تھی۔